23 جولائی 2011 - 19:30

عالمی سطح پر غزہ کا محاصرہ ختم ہونے کی ضرورت پر تاکید کے باوجود صہیونی ریاست بدستور اپنی تشدد آمیز پالیسیوں کے تحت اور مغربی ملکوں خاص طور پر امریکہ کی حمایت کے ساتھ غزہ کا محاصرہ جاری رکھنے پر زور دے رہی ہے۔

ابنا: یہ ایسے وقت میں ہے کہ صہیونی ریاست غزہ کے لیے امداد لے جانے والے بین الاقوامی قافلوں کے خلاف تشدد آمیز اقدامات جاری رکھ کر اور انہیں ڈرا دھمکا کر غزہ کا محاصرہ ختم کرانے کے لیے بین الاقوامی امن کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے اور خوف و دہشت کی فضا قائم کر کے رائے عامہ کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ غزہ کا محاصرہ جاری رہے گا۔ لیکن فلسطینی عوام کی حمایت میں بین الاقوامی سطح پر ہونے والے اقدامات اور غزہ کے محاصرے کے خاتمے پر عالمی برادری کی تاکید نے صہیونی ریاست کو اس کے اس غیر انسانی مقصد میں ناکام کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوغان نے استنبول میں فلسطین کے سفیروں کے اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ غزہ کا المیہ ختم ہونا چاہیے اور عالمی برادری کو صہیونی ریاست کے مظالم پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔یہ ایسے وقت میں ہے کہ غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے افریقی عوام کے ایک امدادی قافلے نے مئی کے مہینے میں جنوبی افریقہ سے اپنے دس ہزار کلومیٹر کے سفر کا آغاز کیا ہے اور آئندہ چند روز کے دوران وہ یہ امداد غزہ کے عوام تک پہنچانا چاہتا ہے۔ صہیونی ریاست کی جانب سے غزہ کے محاصرے نے کہ جو دو ہزار سات کے بعد سے انتہائی سخت ہو گيا ہے، عملا تقریبا پندرہ لاکھ فلسطینیوں کی زندگي کو انتہائی اجیرن بنا دیا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران ملیشیا کے عوام کا ایک امدادی قافلہ اس ملک کے پہلے خلاباز شیخ مظفر شوکور کی قیادت میں غزہ کے لیے روانہ ہو گا۔ یہ امدادی قافلہ " غزہ میں ماہ رمضان " کے عنوان سے تیار کیا گيا ہے۔ اس امدادی قافلے کا ایک مقصد غزہ میں ایک ہسپتال تعمیر کرنا ہے۔حالیہ مہینوں کے دوران صہیونی ریاست کی جانب سے غزہ کے محاصرے میں شدت کے بعد وہاں کے حالات انتہائی بحرانی ہو گئے ہیں اور غزہ کے عوام انتہائی مشکلات اور مسائل کا شکار ہیں جس کی بنا پر عالمی سطح پر غزہ کے محاصرے کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں اضافہ ہو گيا ہے اور عالمی سطح پر مختلف ملکوں اور براعظموں سے امدادی قافلے غزہ کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر صہیونی ریاست کے خلاف نفرت اور فلسطینی عوام کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔............./169